Amaltas Urdu Novel | Episode 2 |املتاس اردو ناول
،،اسلام علیکم !!!،،
مومن نے قدرے سنبھل کر سر کو ہلکا سا خم دے کر سلام کیا۔
،،وعلیکم السلام!!!،،
بظاہر حیات ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور فوکسڈ نظر آرہی تھی مگر اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
،،اندر آسکتا ہوں؟،،
اس نے بیگ کی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے اجازت چاہی۔
،،جی بالکل یہ آپ کے باپ کا گھر ہے۔،، نہایت سنجیدگی سے کہتے ہوئے حیات نے اس کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔
مومن ایک ہاتھ جینز کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پرسکون انداز میں چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔
،،آپ یہاں انتظار کریں۔ تھوڑی دیر میں ملازم آکر آپ کا کمرہ سیٹ کردے گا۔،،
مومن نے اثبات میں سرہلایا۔
وہاں سے وہ سیدھی اپنے روم میں آئی تھی۔ایک سانس میں اس نے پانی کا پورا گلاس خالی کیا۔
چند منٹ گہری سانسیں لیکر خود کو پرسکون کرنے میں لگ گئے۔۔۔ پھر وہ اٹھ کر ہالہ کے پاس آئی۔۔۔
،،ہالہ بیٹا چانک ایک مہمان آ گیا ہے، ہم ابھی کندن بوا کو جگا کر واپس آ رہے ہیں۔آپ اب سو جائیں۔۔۔آپ کا اسکرین ٹائم ختم!!!،،
وہ اسے کمبل پہناتے ہوئے بول رہی تھی۔
ہالہ نے فورا اچھے بچے کی طرح ٹیبلٹ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
تھوڑی دیر بعد جب اسے یقین ہوگیا مما اس وقت کندن بوا کے کمرے میں پہنچ گئی ہوگی اس نے چپکے سے بند آنکھیں کھولیں اور دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔
ہال میں صوفے پر تنہا مومن اردگرد کا ناقدانہ انداز میں جائزہ لے رہا تھا۔
گھر میں کوئی گیسٹ آیا تھا اسے دیکھے بغیر ہالہ بھلا کیسے سوسکتی تھی۔
دروازہ کی ہلکی سی آواز مومن نے بھی سنی۔ اس نے چونک کر گردن موڑی مگر اس کے دیکھنے سے پہلے دروازہ بند ہوگیا۔
تھوڑی دیر بعد پھر کسی نے دروازے سے جھانکا۔
نائٹ سوٹ میں ملبوس لمبے کرلی بالوں والی بچی کو مومن نے لحطہ بھر دیکھا تھا کیونکہ اس نے کسی اجنبی کو اپنی طرف متوجہ پاکر خود کو دروازے کے پیچھے چھپا لیا تھا۔ آہستہ آہستہ دروازہ بند ہو گیا۔
مگر جس چیز نے اسے چونکنے پر مجبور کیا تھا وہ تھے اس کے لمبے کرلی بال۔ دل میں عجیب سی ہوک اٹھی تھی۔
اتنے میں کندن بوا اٹھ کر آگئی۔۔۔ اس کے آنے کے بعد ملازم بھی اندر آگیا۔
جبکہ حیات کندن بوا کو جگا کر اور اسے ضروری ہدایات دینے کے بعد خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ اس بار مومن نے خاص طور پر نوٹس کیا کہ حیات بھی اسی کمرے میں سونے گئی تھی جس میں سے وہ کرلی بالوں والی بچی جھانک رہی تھی۔
وہ رات دونوں نے جاگتے ہوئے گزاری نہ تو مومن پوری رات سو سکا نہ حیات۔
اگلی صبح رات کا بھاری بوجھ لیکر طلوع ہوئی تھی۔
صبح جب حیات اپنے کمرے سے باہر نکلی تو کندن بوا پہلے سے اس کا انتظار کررہی تھی۔
،،حیات پتر رات مومن نے مجھ سے ہالہ نور کا پوچھا تھا۔،،
حیات نے اچنبھے سے کندن بوا کو دیکھا۔
،،اسے ہالہ کے بارے میں کس نے بتایا؟،،
،،پتا نہیں جی لیکن انھوں نے اور کوئی بات مجھ سے نہیں کی بس صرف یہ پوچھا کہ ہالہ نور کون ہے؟،،
،،اور آپ نے کیا کہا؟،،
حیات نے قدرے بے قراری سے پوچھا۔
،،میں نے کہا کہ وہ حیات کی بیٹی ہے۔،،
،،آہ!!!،، حیات نے ٹھنڈی سانس کھینچی۔
کندن بوا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
،،چلیں کوئی بات نہیں۔ اب وہ آہی گیا ہے تو اس سے چھپا تو نہیں سکتے ناں۔ آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔،،
،،میں کچن میں جارہی ہوں آپ ہالہ کو دیکھیں ۔۔۔ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔،،
وہ آگے بڑھتے ہوئے بولی۔۔۔
ابھی وہ ہالہ کا ناشتہ اور لنچ تیار کر رہی تھی جب ہالہ اسکول یونیفارم میں اپنے کمرے سے باہر نکلی۔کندن بوا اس کے پیچھے بیگ لیکر آرہی تھی۔۔
،،ہیلو ہالہ نور ۔۔۔،،
مومن اچانک راہداری سے نکل کر ہالہ کے سامنے آگیا۔
ہالہ نے معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپائیں۔
،،مجھے پہچانا لٹل گرل؟،، وہ اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے بولا۔
پہلے وہ ناسمجھی سے اسے گھورتی رہی۔۔۔
،،آپ فون والے انکل ہیں۔،، وہ جیسے دماغ پہ زور دے کر بولی۔
،،ایگزیکٹلی تم واقعی سمارٹ ہو.،،
Can I hug you?
ہالہ نے تذبذب سے ماں کو دیکھا جو کچن میں بظاہر مصروف نظر آرہی تھی۔۔۔یا جان بوجھ کر یہ سب نظرانداز کررہی تھی۔
مومن نے نہ صرف اسے گلے سے لگایا تھا بلکہ اس کے گال چوم کر اپنے بازو پہ اٹھا لیا تھا۔
کسی اجنبی کا یوں فرینک ہونا ہالہ کےلیے الجھن کا باعث بن رہا تھا۔
مگر ان سب سے بے نیاز وہ اسے اٹھائے واپس کمرے میں چلا گیا۔
ان کے جانے کے بعد کندن بوا بیگ لیکر حیات کے پاس کچن میں آئی جو ہالہ کے لنچ باکس میں فروٹ رکھ رہی تھی۔
،،کندن بوا کیا آپ جانتی ہیں ہالہ اس کے ساتھ فون پر رابطے میں تھی؟،،
حیات نے مشکوک نظروں سے کندن بوا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
،،نہیں میرے سامنے اس نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔،، وہ واقعی لاعلم تھی۔
سچ بات تو یہ تھی کہ مومن کی اچانک آمد نے سب کو مخمصے میں ڈال دیا تھا۔
اس حویلی کی لوکیشن کچھ اس طرح تھی کہ برآمدے کے اندر ایک بڑا سا مرکزی دروازہ تھا، جو اندر داخل ہونے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اینٹرنس کے بالکل ساتھ اوپن کچن واقع تھا، جو ایک وسیع ہال سے منسلک تھا۔ کچن کی کھڑکی مغرب کی جانب باغیچے میں کھلتی تھی، جبکہ کچن کے بالکل مقابل مشرق کی جانب آغا جان کا کمرہ تھا۔
اسی ہال میں ایک ڈائننگ ٹیبل رکھا تھا جہاں پر بیٹھ کر وہ ناشتہ کیا کرتی تھیں۔
ہال کے ایک طرف کونے میں جھولا لگا ہوا تھا جو پچپن سے حیات کے لیے ایک ریلیکسنگ کارنر تھا۔
اسی ہال میں آغا جان کے کمرے کی دیوار کے پاس صوفے پڑے تھے، جن پر اس رات مومن بیٹھا تھا۔
اگر اسی طرف گردن موڑو تو سامنے حیات کا کمرہ نظر آتا تھا۔
آغا جان اور حیات کے کمرے میں سے ایک لمبی راہداری نکلتی تھی، جس کے آگے سٹڈی روم، گیسٹ روم اور مذید کمرے تھے۔۔۔
رات مومن نے گیسٹ روم میں گزاری تھی۔
اس وقت اسی گیسٹ روم کے بیڈ پہ ہالہ دونوں ٹانگیں نیچے لٹکائے بیٹھی تھی۔
گندمی رنگت پھولے گال اور سیاہ آنکھیں بنا کسی کریز کے۔۔۔ بالکل حیات کی آنکھوں کی طرح تھیں۔۔۔ڈھکی ہوئی پلکوں والی…
Monolid eyes
مومن بس صرف اسے دیکھے جا رہا تھا۔
،،آپ کون ہیں؟،، بات کرتے وقت کرلی بالوں میں لگی دو پونیاں ادھر ادھر جھول رہی تھیں۔
،،میں تمہارا بابا ہوں۔،،
،،کیا آپ میرے بابا ہو ؟،، وہ حیرانگی سے بولی
مومن نے اثبات میں سرہلایا۔
اس بات پہ ہالہ کے چہرے پہ کوئی خاص جذبات نظر نہیں آئے۔
،،ہالہ کو چاکلیٹس پسند ہیں؟،، مومن نے اس کے ہاتھ میں چاکلیٹس پکڑاتے ہوئے پوچھا۔
،،بہت زیادہ مگر مما مجھے زیادہ نہںیں کھانے نہیں دیتی۔،، اس نے منہ بنایا۔
،،کیونکہ زیادہ چاکلیٹس کھانے سے ہمارے دانت میں niap شروع ہوجاتا ہے ناں۔،، تھوڑی دیر بعد اس نے خود وضاحت دی۔
مومن بے اختیار مسکرایا۔
،،جب ہم سکول سے واپس آئیں گے آپ یہاں سے چلے جائیں گے؟،،
،،نہیں اب ہم ہالہ کے ساتھ رہیں گے۔ ویسے بھی ہالہ آج سکول نہیں جارہی ہے۔۔۔،،
،،سچ میں؟،، وہ ایکسائٹمنٹ سے بولی۔
،،سچ میں۔۔۔،، مومن نے اثبات میں سرہلایا۔
ماں کی نسبت وہ بہت ہی فرائینڈلی تھی۔ اس کی ہر کسی سے بہت زیادہ دوستی ہوجاتی تھی۔ لگتا تھا گھر میں آنے والا مہمان ہالہ کو پسند آگیا تھا۔
،،ہم نے رات آپ کو دیکھا تھا۔،، ہالہ رازداری سے چاکلیٹ کا بائٹ لیتے ہوئے بولی۔
،،مجھے معلوم ہے۔،، وہ بھی سرگوشی سے اس کے کان میں بولا۔
،،سنو اب کوئی آپ سے آپ کے بابا کے بارے میں پوچھے تو انھیں کہنا میرے بابا کا نام مومن ہے۔،،
مومن کی آنکھیں جل رہی تھیں۔
،،اوکے۔،، وہ معصومیت سے بولی۔
،،میرے بعد حیات کا کیا ہوگا وہ بالکل اکیلی ہوجائے گی۔اگر فاروق ہوتا تو مجھے اس کی بالکل پرواہ نہ تھی میں سکون سے آنکھیں بند کرسکتا۔۔۔،، بابا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے۔۔۔
آہ!!! بابا بلاوجہ کے پریشان تھے۔ اسے ہمیشہ سے کسی کی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ بیٹی بھی تنہا پال لی اور باپ کو بھنک نہ پڑنے دی۔ مومن نے سلگ کر سوچا۔
یہاں سے میلوں دور ایک بہت ہی عالیشان محل نما گھر میں تقریبا 07 سے زیادہ برس کی عمر کا شخص سردار جعفر اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے بال مونچھیں داڑھی سب سفید تھیں۔ یہاں تک کہ اس نے مکمل سفید لباس پہن رکھا تھا۔
چہرے پہ کچھ ایسی دہشت تھی کہ چند منٹ نظریں نہ ٹھہر سکتیں۔
اس کے روبرو ایک شخص مودب انداز میں اپنے سیل فون پر ایئرپورٹ پر موجود ایک شخص کی تصاویر زوم کرکے دکھا رہا تھا۔
سفید بالوں والے شخص کا چہرہ بے یقینی اور جوش کی وجہ سے سرخ پڑرہا تھا۔
،،اسے ڈھونڈو جتنا جلد ہوسکے دشمن کی نظروں میں آنے سے پہلے وہ مجھے یہاں چاہیے۔۔۔۔،،
اس نے اپنے ساتھ بیٹھے ایک اور شخص کو حکم دینے کے انداز میں کہا جس نے عقیدت سے سر جھکا دیا تھا۔
وہاں سے اٹھ کر وہ اپنے بیٹے کے کمرے میں آیا۔
کمرے کو دیکھ کر یوں لگتا جیسے یہ کسی شہزادے کا کمرہ ہو۔۔۔سب کچھ ویسے کا ویسا تھا کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔۔۔یوں جیسے یہاں پر آکر وقت تھم گیا ہو۔۔۔اس کمرے سے ملحق ایک سٹوڈیو تھا جہاں پر حاتم پینٹنگ کیا کرتا۔ دیواروں پر حاتم کے ہاتھ کی بنی کئی پینٹنگز آویزاں تھیں۔۔۔۔درمیان میں ایک کینوس سٹینڈ تھا جس پر ابھی بھی ایک نامکمل پینٹنگ ادھوری کہانی کی طرح خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔ اُس بوڑھے نے آہستہ سے انگلیوں کی پوروں سے کینوس کو چھوا، یوں جیسے وہ بیٹے کی خوشبو کو محسوس کرنا چاہتا ہو۔۔۔
گیراج میں حاتم کی پسند کی کئی مہنگی اور نایاب گاڑیاں اپنے مالک کی منتظر تھیں۔۔۔
آہ۔۔۔ حاتم کے شوق کی چمکتی دمکتی دنیا اس کے ساتھ ہی گم ہوگئی تھی۔
اگرچہ اس محل نما گھر کی شان و شوکت ہر کسی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی مگر دیار حاتم کا بوڑھا ایک ایسے روگ کے ساتھ جی رہا تھا جس جس کا مداوا دنیا کی کوئی دولت نہیں کر سکتی تھی۔
اس گھر میں اس کے بیٹے حاتم کی تصاویر جابجا لگی ہوئی تھیں۔ ان تصویروں میں کھڑے شخص کو لحظہ بھر رک کر دیکھو تو ان میں سب سے نمایاں اس کے کاندھوں تک آتے لمبے کرلی بال تھے۔۔۔۔
،،ابا اور کتنا اس روگ کو سینے سے لگائے پھریں گے۔۔۔،،
لمبی ہیل پہنے گہری لپ سٹک لگائے وہ ان تصویروں کے پاس کھڑے بوڑھے کو روتے دیکھ کر رک گئی تھی۔۔۔
حاتم مل جائے گا بہت جلد۔۔۔،، بوڑھی آنکھوں میں امید تھی۔۔۔،،
،،اب بس کردیں سالوں گزرے اس کو یہاں سے گئے مگر اس کا نام بار بار سن کر مجھے غصہ آتا ہے۔۔۔،،
سردار جعفر نے تصویر سے نظریں ہٹا کر اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھا جس نے پاوں تک آتی کالی میکسی پہن رکھی تھی۔۔۔ ان میں سب سے نمایاں اس کی لپ سٹک کا رنگ تھا۔۔۔لال رنگ گہرا لال۔۔۔
،،بختیرا اتنا سجنا سنورنا لڑکیوں کے لئے مناسب نہیں ذرا دھیان رکھا کرو۔،،
بختیرا نے ناگواری سے سر جھٹکا اور لمبے ڈگ بھرتی آگے کی طرف بڑھ گی۔۔۔
،،حاتم بس کرو۔۔۔ تمہاری جدائی کسی دن میری جان نکال دے گی۔،،
بوڑھے ہاتھ پھر سے بیٹے کی تصویروں پر لرز رہے تھے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
(تحریر حمنہ قندیل)



Bht zbrdast episode th. Fulllll suspense novel mazeed interesting hota ja rha h.
I am waiting for all episodes🫠